"کیا ہے یہ سب۔۔۔؟؟" وہاں مجمع لگا تھا۔۔۔ یوں جیسے عدالت ہو۔۔۔ اور اسے بے قصور ہوتے ہوۓ بھی کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا تھا۔۔۔ خان بابا طیش کے عالم میں اس کے جھکے سر کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ جو بالکل خاموش کھڑی تھی۔۔۔ اس کے اماں ابا اس سے کچھ فاصلے ہر دائیں جانب کھڑے بھیکگی نگاہوں سے اسے تک رہے تھے۔۔۔ یہ سوچتے ہوۓ کہ نہ جانے کیا لکھا تھا ان کی بیٹی کے نصیب میں۔۔۔ حمزہ کے گھر والے بھی ایک جانب کھڑے تھے۔۔۔ تنفر اور تحقیر بھری نظریں اس پر گاڑے۔۔۔ وہاں موجود ہر فرد کے تاثرات کم و بیش یہی تھے۔۔۔
"لڑکی۔۔۔ ہم تم سے مخاطب ہیں۔۔۔ ہمیں جواب چاہئیے۔۔۔ کیا سوچ کر تم نے یہ قدم اٹھایا۔۔۔ اگر تم اس بستی میں سب سے خوبصورت ہو تو اس میں تمہارا کوئ کمال نہیں سمجھی تم۔۔۔ رب نے یہ حسن تمہیں اس لیے نہیں دیا کہ تم جا کر اپنے حسن کی بولی لگواؤ۔۔۔ بازاروں میں بیچتی پھرو اسے یوں۔۔۔ " شدید غصے میں خان بابا نے وہ میگزین اس کے منہ پر مارا۔۔۔ میگزین اس کے چہرے سے ٹکرا کر زمین بوس ہوا تھا اور وہ تصویر نظروں کے سامنے آئ تھی جہاں سفید لباس میں وہ کھڑی تھی۔۔۔ پریوں کی شہزادی۔۔۔
آنسو پلکوں کی باڑ توڑنے کو بیتاب ہوۓ تھے لیکن وہ یہاں رونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔دکھ تھا تو اس بات کا۔۔۔کہ اس کی وجہ سے آج اس کے ماں باپ بھی سر جھکاۓ کھڑے تھے۔۔۔
"جمال الدین۔۔۔ تم بتاؤ۔۔۔۔ کیا سزا تجویز کی جاۓ اب تمہاری بیٹی کے لیے۔۔۔ جو کرتوت یہ کر چکی ہے وہ بالکل بھی معافی کے قابل نہیں ہے۔۔۔ اس پہ ستم یہ کی پانچ دن بعد اس کی جو شادی طے پائ تھی اب وہ لوگ بھی راضی نہیں اس شادی پر۔۔۔ اور اس سے پہلے کبھی ہماری بستی میں ایسی نوبت نہیں آئ کہ کسی کی شادی ٹوٹے۔۔۔" انہوں نے تلخ لہجے میں کہتے ہوۓ زونی کے بابا کو مخاطب کیا۔۔۔ وہ کیا کہتے۔۔۔ خان بابا کا تو سب پر رعب چلتا تھا۔۔۔ اور جو فیصلہ وہ کرتے اس سے روگردانی کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔۔۔
"مجھے یہ شادی نہیںگ کرنی۔۔۔" سب وہاں خانوش کھڑے تھے جب زونی کی آواز ابھری۔۔۔ خان بابا نے شاک کے عالم میں اس کی جانب دیکھا۔۔۔ وہ چھٹانک بھر کی لڑکی آج یہاں سب کے سامنے اس شادی سے انکار کر رہی تھی جو انہوں نے ہی طے کی تھی اس کے بچپن میں۔۔۔ اس پوری بستی میں کوئ ان کے سامنے زبان کھولنے کی جرأت نہ رکھتا تھا اور وہ سترہ سالہ لڑکی ان کے فیصلے سے ڈٹ کر انکار کر رہی تھی۔۔۔
"کیا کہا تم نے۔۔۔؟؟" وہ جو اپنا رخ زونی کے بابا کی جانب کیے ہوۓ تھے اسے گھورتے ہوۓ بالکل اس کے سامنے آ کھڑے ہوۓ۔۔۔
زونی نے دل کو مضبوط کیا اور ہمت مجتمع کی اپنی بات کہنے کو۔۔۔ "مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔ ابھی اسی وقت میں اس شادی سے انکار کرتی ہوں۔۔۔ بدلے میں آپ جو سزا دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔۔۔ " اس کی آواز میں لرزش سی تھی۔۔۔ "چٹاخ" زواردار آواز ابھری تھی اور خان بابا کا سخت اور مضبوط ہاتھ اس کے رخسار پر اپنی انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا تھا۔۔۔ زونی لڑکھڑا کر نیچے گری۔۔۔۔ "تمہاری یہ مجال۔۔۔ ہمارے سامنے زبان درازی کرو۔۔۔ ہمارے فیصلے کے خلاف جاؤ۔۔۔ ہم زبان کھینچ لیں گے تمہاری۔۔۔ " وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے غراۓ۔۔۔ زونی کے ماں باپ تڑپ اٹھے تھے بیٹی کی حالت پر لیکن بے بس کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔۔۔
"ہاں۔۔۔ میں روگردانی کر رہی ہوں آپ کے فیصلے سے۔۔۔ کیونکہ آپ کا فیصلہ غلط ہے۔۔۔ کیوں طے کرتے ہیں آپ بچپن میں ہی شادیاں۔۔۔ کیوں اتنے ظالم ہیں آپ لوگ کہ لڑکی اپنی پسند کا ذکر کرے تو اسے زندہ دفن کر دیتے ہیں۔۔۔ جلا کر مار دیتے ہیں۔۔۔ کیا جینے کا حق صرف لڑکوں کو ہے۔۔۔ کیا صرف مردوں کو ہی خدا نے آزاد پیدا کیا ہے۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ آخر کیوں سب پابندیاں لڑکیوں کے لیے ہیں۔۔۔ میں ایک بار نہیں۔۔۔ ہزار بار کہوں گی کہ مجھے یہ شادی نا منظور ہے۔۔۔ اور آپ لوگ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔۔۔" وہ روتے ہوۓ چینخ اٹھی تھی۔۔۔ اس کے اس نڈر انداز پر سب لوگوں کے منہ حیرت سے کھلے رہ گۓ۔۔۔ سب سمجھنے سے قاصر تھے کہ وہ لڑکی جو دبو سی تھی۔۔۔ کبھی کسی کی سامنے بولتی نہ تھی۔۔۔ پلٹ کر جواب نہ دیتی تھی۔۔۔ وہ لڑکی آج اتنی بے خوف کیسے ہو گئ۔۔۔ اس بات سے بے خبر تھے سب کہ محبت تو کمزور سے کمزور شخص کو بھی طاقتور بنا دیتی ہے۔۔۔
خان بابا طیش کے عالم میں آگے بڑھے۔۔۔ اس کے سامنے جھکے اور بالوں سے پکڑ کر اس کی گردن ج
کو جھٹکا دیا۔۔۔ وہ سسک اٹھی تھی اس وحشیانہ پن پہ۔۔۔ "کس پسند کی بات کر رہی ہو تم۔۔۔ ہاں۔۔۔ بولو۔۔۔ کون پسند آ گیا تمہیں جو پانچ دن بعد ہونے والی شادی سے انکار کر رہی ہو ۔۔۔ جواب دو۔۔۔" ایک اور زوردار تھپڑ اس کا چہرہ سرخ کر گیا تھا۔۔۔ اس کے نچلے ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔۔۔
"ہاں کرتی ہوں پسند۔۔۔ اور وہ جو بھی ہے آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی۔۔۔ "وہ بھی نفرت سے بھرپور لہجے میں دوبدو جواب دینے پر اتر آئ تھی۔۔۔ خان بابا کی آنکھوں میں خون اترا آیا۔۔۔ اسے بالوں سے کھینچتے ہوۓ نیچے سے اٹھایا اور جنونی انداز میں اس کا سر بار بار دیوار سے ٹکرانے لگے۔۔۔ ساتھ منہ سے مغلظات کا سمندر بہنے لگا تھا۔۔۔ زونی کے ماتھے پر زخم بن کر خون رسنے لگا۔۔۔ باقی سب تو بس تماشا دیکھنے آۓ تھے۔۔۔ زونی کے اماں اور بابا بیٹی کی حالت دیکھ کر رہ نہ پاۓ۔۔۔ تیزی سے قریب آتے ہوۓ خان بابا کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔۔۔ "خدا کا واسطہ ہے خان بابا۔۔۔ بچی ہے۔۔۔ نادانی کر بیٹھی ہے۔۔۔ چھوڑ دیجیے اسے۔۔۔ ہم۔۔۔ ہم سمجھا دیں گے اسے۔۔۔ جو آپ کا فیصلہ ہو گا ہم وہی کریں گے۔۔۔ پانچ دن بعد ہے نا شادی۔۔۔ شادی ہو گی اس کی۔۔۔ وہیں ہو گی جہاں آپ نے طے کی۔۔۔ لیکن خدا کے لیے بچی کو بخش دیں۔۔۔ " وہ دونوں بھی رو رہے تھے۔۔۔ خان بابا نے زخمی حالت میں زونی کو ان کی جانب دھکیلا۔۔۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئ گرنے کے قریب تھی جب روتی ہوئ اماں نے اسے سہارا دیا۔۔۔"لے جاؤ اسے میری نظروں سے دور۔۔۔ ورنہ قتل ہو جاۓ گی یہ آج میرے ہاتھوں۔۔۔ کوئ شادی نہیں ہو گی اب یہ۔۔۔ اس کا فیصلہ ابھی اسی وقت کریں گے ہم۔۔۔ اس نے اپنی ان نگاہوں سے اجنبی مرد کو دیکھا۔۔۔۔ اور نہ جانے کتنے مردوں نے اس کی شکل دیکھی۔۔۔ یہ گناہگار ہے۔۔۔ بدکردار ہے۔۔۔ اور اسے بھی وہی سزا ملے گی جو ہمارے ہاں بدکرداروں کو دی جاتی ہے۔۔۔ جس دن اس کی بارات طے تھی وہی دن مقرر کیا جاۓ گا اس کی سزا کے لیے۔۔۔ تا کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں کہ بڑوں کے سامنے زبان چلانے اور ایسی گھٹیا حرکتیں کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔۔۔ " سردو سپاٹ لہجے میں کہتے ہوۓ انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا جس پر ہر شخص سناٹے میں رہ گیا۔۔۔ زونی اور اس کے ماں باپ کے پیروں تلے سے گویا زمین چھین لی گئ تھی۔۔۔ زونی کی اماں جو بیٹی کو سنبھالے گھر جانے لگی تھیں یہ فیصلہ سن کر گر گئیں۔۔۔ اتنی سخت سزا چنی گئ تھی ان کی بیٹی کے لیے۔۔۔ جمال الدین نم آنکھیں لیے بیوی کی جانب بڑھے جبکہ خان بابا اس خاندان پر قہر بھری نگاہ ڈال کر وہاں سے چلے گۓ۔۔۔ باقی سب لوگ بھی افسوس بھری نگاہوں سے انہیں دیکھتے وہاں سے جانے لگے۔۔۔ جبکہ زونی ایک طرف لٹی پٹی حالت میں بیٹھی گم صم پتھرائ آنکھوں سے کبھی باپ کے چہرے کو دیکھتی اور کبھی ماں کو۔۔۔ اس محبت نے اسے اور اس کے گھر والوں کو کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔۔۔
"مر گئ ہیں اب تو خواہشیں ساری۔۔۔
اب تو خالی ہے روح جذبوں سے۔۔۔"
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
"وہ اک لمحۂ محبت،
جو تیرے سنگ تھا گزرا،
بہت انمول ہے جاناں،
جسم سے درد اٹھتا ہے،
رہا دل بول ہے جاناں،
کہ قرض اس ایک لمحے کا،
جاں دے کر ہم اتاریں گے۔۔۔
ہے وعدہ تم سے دلبر کہ،
یہ سانسیں تجھ پہ واریں گے۔۔۔
زہر یہ عشق نس نس میں۔۔۔
رہا اب گھول ہے جاناں۔۔۔
وہ اک لمحۂ محبت،
بہت انمول ہے جاناں۔۔۔
تمہارے بن یوں جینا اب
بہت دشوار لگتا ہے۔۔۔
بچھڑ کر زندہ رہنا بھی۔۔۔
عشق کی ہار لگتا ہے۔۔۔
نہیں یہ شاعری کوئ۔۔۔
یہ میرا بول ہے جاناں۔۔۔
وہ اک لمحۂ محبت۔۔۔
بہت انمول ہے جاناں۔۔۔"
بالآخر وہ دن بھی آ پہنچا تھا جسے اس کی بارات کے لیے طے کیا گیا تھا لیکن اب اسی دن اسے سزا دی جانی تھی۔۔۔ سزا کیا تھی اس سے بھی سب واقف تھے۔۔۔ اور افسردہ بھی۔۔۔ یہ پانچ دن اس گھر کے سبھی افراد نے روتے ہوۓ گزارے تھے۔۔۔ سواۓ زونی کے۔۔۔ صرف وہی تھی جو بے حس بنی بیٹھی رہتی۔۔۔ نہ کچھ بولتی۔۔۔ نہ کچھ سنتی۔۔۔ اب تو رونا بھی چھوڑ دیا تھا اس نے۔۔۔ اسے دیکھ کر کسی پتھر کی مورت کا گمان ہوتا۔۔۔ اس کے ماں باپ تھک گۓ تھے اس پتھر سے سر پھوڑتے پھوڑتے۔۔۔ اسے سمجھاتے سمجھاتے۔۔۔ کہ وہ خان بابا سے معافی مانگ لے اور شادی کے لیے راضی ہو جاۓ۔۔۔ لیکن اس نے تو جیسے نہ بولنے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔۔ کسی کی بات کا جواب نہ دیتی۔۔۔ عاشی اور علینہ نے بھی ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی اس کے فیصلے کو بدلنے کی۔۔۔ مگر کوئ بھی کوشش کارگر ثابت نہ ہوئ۔۔۔
آج بھی صبح سے اس گھر کا ہر فرد رو رہا تھا۔۔۔ ایک دوسرے سے چھپ کر۔۔۔ ایک دوسرے سے نگاہیں چراۓ۔۔۔ دروازے پر دستک ہوئ۔۔۔ اور پھر بستی کے دو افراد اندر داخل ہوۓ۔۔۔ گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھی زونی کو بازوؤں سے تھاما۔۔۔ "چھوڑو مجھے۔۔۔ میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔" نفرت سے کہتے ہوۓ اس نے بازو ان سے چھڑاۓ۔۔۔اور لب کاٹتی سر جھکاۓ ان سے آگے چلنے لگی۔۔۔۔ پیچھے عاشی، علینہ اور اماں کی چینخیں سنائ دی تھیں لیکن وہ کان لپیٹے نکلتی چلی گئ۔۔۔ ان کے گھر کے دروازے سے لے کر بستی کے درمیان موجود کھلے سے میدان تک لوگ ہی لوگ تھے جو ترحم بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔ سب افراد غمزدہ تھے اس کے لیے لیکن وہ خود اتنی پتھر دل ہو گئ تھی کہ اپنے آپ پر ہی ترس نہ کھا رہی تھی۔۔۔
اس میدان میں بھی لوگ ہی لوگ تھے۔۔۔ اور ایک جانب کرسی رکھے خان بابا براجمان تھے۔۔۔ اسے آتا دیکھ کر ان کے چہرے پر نخوت کے تاثرات ابھرے۔۔۔
وہاں ایک چوبارہ سا بنا تھا۔۔۔ زونی کو اس چوبارے میں لے جایا گیا اور دو عورتیں اس کے ساتھ بھیجی گئیں۔۔۔چند لمحوں بعد وہ عورتیں اسے لیے باہر آئیں تو اس کے کپڑے تبدیل کر دئیے گۓ تھے اور اب وہ کالے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔۔۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔ جیسے وہ ہر چیز کے لیے تیار ہو۔۔۔
وہاں میدان میں ایک اونچی سی اسٹیج نما جگہ بنائ گئ تھی جہاں کچھ ستون بنے تھے۔۔۔
زونی کو ان ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔۔۔ اتنی مضبوطی سے کہ وہ ہل بھی نہ پاۓ۔۔۔ وہ اذیت سے آنکھیں موند گئ۔۔۔ آج اس کا تماشا بنایا جا رہا تھا۔۔۔ تکلیف تو ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن کوئ پچھتاوا نہ تھا۔۔۔ آنکھوں میں آنسو بھی نہ تھے۔۔۔ چہرہ ویران اور زرد تھا۔۔۔ وہ جیتی جاگتی انسان نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ مرنے سے پہلے ہی زندہ لاش بن کر رہ گئ تھی۔۔۔
اس سزا میں قصور وار کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو میدان میں آنے کی اجازت نہ تھی۔۔۔ اسلیے زونی کے گھر والوں کو وہیں ان کے گھر میں قید کر دیا گیا تھا کچھ دیر کے لیے۔۔۔
اسے باندھنے کے بعد خان بابا کا ہی ایک خاص ملازم جبار آگے بڑھا۔۔۔ جو چہرے سے ہی سخت اور پتھر دل آدمی لگتا تھا۔۔۔ اس سے پہلے بھی وہ بہت سے لوگوں کو یوں سزائیں دے چکا تھا اور اس کا دل لمحہ بھر کو بھی نہ کانپا تھا۔۔۔ وہیں اس جگہ ایک جانب آگ جلائ گئ تھی۔۔۔
جبار کے ہاتھ میں کچھ تھا۔۔۔ یوں جیسے کوئ مہر ہو۔۔۔ لوہے کی بنی مہر۔۔۔ جسے وہ اب آگ پر رکھ کر تپا رہا تھا۔۔۔ سب خوف کے عالم میں کبھی اسے دیکھتے کبھی زونی کے بے تاثر چہرے اور بھنچے ہوۓ لبوں کو۔۔۔ چند لمحوں بعد جبار وہ مہر لیے زونی کے جانب بڑھا۔۔۔ ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو مضبوطی سے تھاما اور دوسرے ہاتھ میں آگ سے تپی ہوئ اس مہر کو پکڑ کر زونی کی پیشانی پر رکھ کر دبایا۔۔۔ اس کی چینخیں بلند ہوئ تھیں۔۔۔ پیشانی کی جلد دھڑا دھڑ جلنے لگی۔۔۔ بے قراری سے وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن جبار کی گرفت میں اتنی سختی تھی کہ وہ ہل بھی نہ سکی۔۔۔ کچھ دیر بعد اس نے مہر ہٹائ تو ماتھے پر سرخ آبلے سے بن گۓ تھے اور جلد پر مہر کا بڑا سا گول نشان پڑ گیا تھا۔۔۔ جو اس بستی میں بدکرداروں کے ماتھے پر داغا جاتا۔۔۔ چاہے کتنا بھی ضبط کرتی مگر تھی تو وہ بھی ایک نازک لڑکی۔۔۔ تکلیف کے مارے چکراتے سر سے وہ سسک رہی تھی۔۔۔ تڑپ رہی تھی۔۔۔ جبار ایک اور مہر پکڑے اب اسے گرم کر رہا تھا۔۔۔ اور چند لمحوں بعد وہ پھر زونی کی جانب بڑھا۔۔۔ اذیت سے دوہری ہوتے ہوۓ نیم وا آنکھوں سے اس نے جبار کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا تو روح تک لرز اٹھی۔۔۔ بے ساختہ وہ نفی میں سر ہلانے لگی تھی۔۔۔ لیکن اب تو کچھ سوچنے سمجھنے اور انکار و اقرار کا وقت گزر چکا تھا۔۔۔ اب تو صرف سزا دینے کا وقت تھا۔۔۔
جبار نے اس بار وہ مہر زونی کی گردن کے دائیں جانب رکھ کر دبائ۔۔۔ وہ مزاحمت کرنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن ادھ موئ حالت میں ہلنے کے قابل بھی نہ رہی۔۔۔ تکلیف کے باعث آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔ "اللہ۔۔۔" اس کے ہونٹ ہلے تھے رب کی پکار میں۔۔۔ لیکن آواز نہ نکل سکی۔۔۔ جبار نے مہر ہٹائ تو وہ نیم بے ہوش سی ہو چکی تھی۔۔۔ گردن پر ایک اور نشان پڑ چکا تھا۔۔۔ یہ مہر ان لوگوں کے جسم پر لگائ جاتی جو نافرمان ہوتے۔۔۔
اس کے بعد جبار کو تلوار تھمائ گئ تھی۔۔۔ اور وہ تلوار تھامے زونی کی جانب بڑھا۔۔۔ بہت سے لوگ اس منظر کی تاب نہ لاتے ہوۓ نگاہیں جھکا گۓ اور کچھ تو رخ ہی موڑ گۓ۔۔۔ اپنے بچوں کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دئیے گۓ کہ وہ یہ منظر نہ دیکھ سکیں۔۔۔ خان بابا کے چہرے پر اب بھی سختی تھی۔۔۔ انہیں ذرا بھی ترس نہ آتا تھا ان لوگوں پر جن پر وہ ظلم ڈھاتے۔۔۔
جبار زونی کے سامنے آیا۔۔۔ اس کی رسیاں کھولیں تو وہ نیچے گر گئ۔۔۔ نیم بے ہوشی کی سی کیفیت میں۔۔۔ رسی لے کر اس کے دونوں ہاتھ پشت پر باندھے۔۔۔ پھر پیروں کو بھی جکڑ دیا۔۔۔اس کے بعد وہ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔۔ تلوار کی نوک اس کی کنپٹی پر بائیں رکھی اور ہلکے سے دباؤ کے ساتھ اسے نیچے تھوڑی تک لانے لگا۔۔۔ یوں کہ جلد کٹ کر خون بہنے لگا تھا۔۔۔ زونی تڑپنے لگی۔۔۔ سسکنے لگی۔۔۔ لیکن وہاں تو سب بے رحم لوگ تھے۔۔۔ جبار نے دوبارہ تلوار دائیں جانب کی کنپٹی پر رکھی اوربغیر اس کی چینخوں کی پرواہ کیے اس کے چہرے کی جلد چیرتے ہوۓ تھوڑی تک لایا۔۔۔ مقصد صرف اس کے چہرے کو، اس کے حسن داغدار کرنا تھا۔۔۔ کہ اس کا چہرہ دیکھنے کے قابل بھی نہ رہے۔۔۔
اور پھر ایک لمحے کا توقف کیے بغیر جبار نے تلوار اس کی گردن پر رکھ کر اس کی شہ رگ کاٹ دی۔۔۔ زونی نے ہچکی لی۔۔۔ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔ سانسیں مدھم ہونے لگیں۔۔۔ لوگ وہاں سے جانے لگے۔۔۔ اسے تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے چھوڑ کر۔۔۔ چند ہی لمحوں بعد سارا میدان خالی ہو گیا۔۔۔ اب وہاں صرف اس کا وجود تھا۔۔۔ رسیوں سے بندھا ہوا۔۔۔ آخری سانسیں لیتا وجود۔۔۔ تبھی وہاں کوئ گاڑی آن رکی تھی۔۔۔ انتہائ اسلیڈ سے چلتی گاڑی کو بریک لگاۓ گۓ تھے۔۔۔ اور پھر کوئ بدحواسی میں بھاگتا ہوا اس تک آیا۔۔۔ وہ تین وجود تھے۔۔۔ دو مرد اور ایک عورت۔۔۔ فہد لغاری۔۔۔ دیا فہد لغاری اور عاشی کا کزن اسماعیل جو انہیں یہاں لے کر آیا تھا۔۔۔ تینوں شاک کی کیفیت میں جہاں تھے وہیں کھڑے رہ گۓ۔۔۔ فہد تیزی سے اس کے قریب آیا۔۔۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ایک ہاتھ اس کے سر کے نیچے رکھا۔۔۔ "زونی۔۔۔ زونی۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔" وہ بھرائ آواز میں اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا جس کی سانسیں شاید اس کے انتہار میں ہی اٹکی تھی۔۔۔ خون نکل نکل کر نیچے بہہ رہا تھا۔۔۔ فہد کی سفید شرٹ کی آستینیں بھی سرخ ہونے لگیں۔۔۔ اس کی پکار پر زونی نے اپنی بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھولا۔۔۔ بے یقین سی نظریں سامنے بیٹھے وجود کے چہرے پر جم سی گئیں جو روتے ہوۓ اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ۔۔۔ وہ اسے سن ہی کہاں رہی تھی۔۔۔ اس کے کانوں میں تو اپنے کہے الفاظ ہی گونج رہے تھے۔۔۔
"میری تو بس دو ہی خواہشات ہیں عاشی۔۔۔ ایک یہ کہ مرنے سے پہلے۔۔۔ فقط ایک بار اسے دیکھ سکوں۔۔۔ اور دوسری یہ۔۔۔ کہ جب میں مروں تو وہ نم آنکھوں سے۔۔۔ میری قبر پر آۓ اور صرف ایک دیا جلا دے۔۔۔ یہی میری محبت کی جیت ہو گی۔۔۔"
اپنے ہی الفاظ ذہن میں دہراتے ہوۓ اس کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ بکھری۔۔۔ شاید اپنی محبت کی فتح کی مسکراہٹ۔۔۔ فہد کی بھیگی آنکھوں میں حیرت ابھری اس دیوانی لڑکی کی مسکراہٹ دیکھ کر۔۔۔ اتنی اذیت میں بھی وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔ یہ کونسا جذبہ تھا۔۔۔ محبت کی کونسی انتہا تھی۔۔۔چند لمحوں بعد جب اس کی باہوں میں ہے زونی نے دم توڑا تب بھی اس کا چہرہ پرسکون تھا۔۔۔ لبوں پر ابھی بھی مسکراہٹ تھی۔۔۔ اور فہد۔۔۔ وہ تو شاید ہوش میں ہی نہ تھا۔۔۔ بے خود سا اسے دیکھے چلا جا رہا تھا۔۔۔
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
"آج زونی کی آخری خواہش بھی پوری ہو گئ۔۔۔" عاشی کی آواز پر زونی کی قبر کے قریب دیا جلاتے فہد اور اس کے ساتھ کھڑی دیا نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔ جو رو رہی تھی۔۔۔ ان کی سوالیہ نگاہیں خود پر جمی دیکھ کر اس نے آنسو پونچھے۔۔۔ "زونی نے مجھ سے ایک بار کہا تھا کہ آپسے محبت کے بدلے وہ کچھ نہیں چاہتی۔۔۔ یہاں تک کہ کبھی آپ کو پانے کا خیال بھی اس کے دل میں نہ آیا۔۔۔ جانتی تھی کہ نہ آپ اس کے لیے بنے ہیں نہ وہ آپ کے لیے۔۔۔اسی لیے اس نے صرف یہ خواہش کی تھی کہ صرف ایک بار وہ آپ کو دیکھنا چاہتی ہے ملنا چاہتی ہے۔۔۔ تبھی میں نے اپنے کزن کو آپ کے پاس بھیجا۔۔۔ اور دوسری خواہش۔۔۔۔ "عاشی نے ان پر سے نگاہ ہٹا کر گلاب کے پھولوں سے سجی اس قبر پر ڈالی۔۔۔ جہاں منوں مٹی تلے وہ محبت میں پاگل لڑکی ابدی نیند سو گئ تھی۔۔۔ "دوسری خواہش اس کی یہ تھی کہ آپ اس کی قبر پر دیا جلانے کے لیے آئیں۔۔۔ اور اس کے کہے بغیر ہی آپ نے اس کی دونوں خواہشات پوری کر دیں۔۔۔" اس کی آنکھوں میں پھر نمی ابھرنے لگی۔۔۔فہد اور دیا نے بھی بھیگی آنکھوں سے اس کی قبر کی جانب دیکھا۔۔۔ "آئم سوری۔۔۔ میری وجہ سے ہی اسے ان سب حالات سے گزرنا پڑا۔۔۔ یہ سب سہنا پڑا۔۔۔ مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ مجھے ایک نظر دیکھ کر یوں میرے عشق میں پاگل ہو جاۓ گی۔۔۔ اور پھر اس انجام سے دو چار ہو گی۔۔۔ میری کی غلطی تھی۔۔۔ اگر میں یہاں نہ آتا تو شاید وہ زندہ ہوتی آج۔۔۔" فہد کے لہجے میں اذیت ہی اذیت تھی۔۔۔ وہ خود کو اس کی موت کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔۔۔ "نہیں صاحب۔۔۔ آپ کی تو کوئ غلطی نہیں۔۔۔ یہ ہم چھوٹے چھوٹے گاؤں کے لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں۔۔۔ جسے ایک بار اپنا مان لیں۔۔۔ پھر اس کے لیے جان بھی حاضر ہوتی ہے۔۔۔ اور اس کی جان تو جانی ہی تھی۔۔۔ آپ نہ ہوتے تو کوئ اور ہوتا۔۔۔ کیونکہ اس کی قسمت میں عشق کرنا لکھا تھا۔۔۔ عشق میں مرنا لکھا تھا۔۔۔ اور شاید اس کے عشق کے ذریعے ہی اس بستی سے ظلم کا خاتمہ ہونا تھا۔۔۔ تبھی تو آپ یہاں آۓ۔۔۔ اس سے ملے۔۔۔ اسے آپ سے محبت ہوئ۔۔۔ اور اس محبت کو برا انجام دینے کی وجہ سے خان بابا کو عمر قید کی سزا ہوئ۔۔۔ یہ آپ کا احسان ہے ہم پر۔۔۔ کہ آپ نے پولیس کو یہاں بلایا۔۔۔ اور خان بابا کو پولیس کی حراست میں دیا۔۔۔ ورنہ نہ جانے اور کتنی جانیں اس ظلم کا شکار ہوتیں۔۔۔ " وہ شکر گزار تھی رب کی۔۔۔ اور فہد کی۔۔۔ کہ ان کی وجہ سے ہی سہی۔۔۔ لیکن آج کے بعد کوئ زونی کسی خان بابا کے ظلم کا شکار نہ ہو گی۔۔۔ "آپ لوگوں کو واپس جانا ہو گا اب۔۔۔ اندھیرا بڑھ رہا ہے۔۔۔ " عاشی کی بات پر فہد نے گہری سانس بھری۔۔۔ اور دیا کی جانب دیکھا جو یک ٹک اس قبر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ "چلو دیا۔۔۔" اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ جبکہ پیچھے عاشی قبر کے نزدیک بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔۔۔ اپنی اس دوست سے جو مٹی تلے پرسکون نیند سو رہی تھی۔۔۔
(ختم شد۔۔۔)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ہم سے رابطہ کرنے کا شکریہ
ہم آپ سے بہت جلدی رابطہ کریں گے۔