کچھ تو کرنے دو

 ٹوٹنے دو ، بکھرنے دو 
دل کو کچھ تو کرنے دو

میری سانس تو قائم ہے 
وہ مرتا ہے تو مرنے دو

دلہن بھی بن جائے گی
زیست کا روپ نکھرنے دو

 ٹوٹنے دو ، بکھرنے دو  دل کو کچھ تو کرنے دو میری سانس تو قائم ہے  وہ مرتا ہے تو مرنے دو دلہن بھی بن جائے گی زیست کا روپ نک...

ہِجر میں تیرے

ہِجر میں تیرے مبتلا ہو کر ہم تو مرجائیں گے جدا ہو کر .