کچھ تو کرنے دو

 ٹوٹنے دو ، بکھرنے دو 
دل کو کچھ تو کرنے دو

میری سانس تو قائم ہے 
وہ مرتا ہے تو مرنے دو

دلہن بھی بن جائے گی
زیست کا روپ نکھرنے دو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں


ہم سے رابطہ کرنے کا شکریہ
ہم آپ سے بہت جلدی رابطہ کریں گے۔